6 ستمبر 2017 - 19:02
مجلس وحدت مسلمین کا جمعہ کو روہنگیا مسلمانوں پر جاری ظلم کے خلاف احتجاج کا اعلان

مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم نے کہا ہے کہ جمعہ کو میانمار کے مسلمانوں کے حق میں پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم نے کہا ہے کہ جمعہ کو میانمار کے مسلمانوں کے حق میں پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ حسن ظفر نقوی نے کراچہی پریس کلب میں پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ "میانمار میں جاری مسلم نسل کشی پر اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی قوتوں کی خاموشی انسانیت کی تضحیک اور بدترین بے حسی ہے۔"

اس موقع پر ان کے ہمراہ صوبائی سیکریٹری سیاسیات علی حسین نقوی، علامہ مبشر حسن، علامہ صادق جعفری، علامہ اظہر نقوی اور میر تقی ظفر بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس میں علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ "روہنگیا میں مسلمانوں کے قتل عام کا سلسلہ برمی حکومت کی سرپرستی میں گزشتہ کئی سال سے جاری ہے۔ رواں ماہ انسانیت سوز مظالم نے جو شدت اختیار کی ہے، اس کے تاریخ میں مثال نہیں ملتی، زندہ خواتین، نومولود اور کمسن بچوں کے جسمانی اعضا کاٹنے کی وڈیوز انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ نوجوانوں کے ہاتھ پاوں باندھ کر انہیں اذیت ناک انداز میں موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ روہنگیا میں مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت سوز سلوک کے روح فرسا مناظر درندگی کی بدترین تاریخ رقم کر رہے ہیں۔"

انھوں نے مزید کہا کہ "عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہزاروں مسلمان موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔ برما کی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کو کسی قسم کا تحفظ دینے کی بجائے قتل عام میں ملوث مذموم عناصر کی حوصلہ افزائی بڑھتے ہوئے انسانیت سوز واقعات کی بنیادی وجہ ہے۔ یورپ کے کسی ملک میں دہشت گردی کے عام سے واقعہ کے بعد پوری دنیا کے امن کو تہس نہس کر دیا جاتا ہے۔ ملالہ یوسف زئی پر گولی چلنے کے درد سے اقوام عالم کے سینے میں ٹیسیں اٹھنے لگتی ہیں، مگر افسوس میانمار میں ہزاروں مسلمانوں کا خاک و خون میں تڑپنا کسی کو دکھائی نہیں دے رہا۔"

علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ "سامراجی طاقتوں کی یہ دانستہ چشم پوشی امت مسلمہ سے متعصبانہ رویے کا برملا اظہار اور قابل مذمت ہے۔ اس مسئلہ پر مسلم ممالک کی طرف سے جس غیر سنجیدگی کا مظاہرہ دیکھنے میں آرہا ہے وہ بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ اسلام کا چیمپئین سعودی عرب بھی اس معاملے پر خاموش ہے، اسلامی ملکوں کا سعودی اتحاد کہاں ہے، امت مسلمہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے تشکیل دیے جانے والے اسلامک ملٹری الائنس نے برما کے مسئلہ پر منہ اور آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔ کیا مسلمانوں کے انتالیس ممالک مل کر بھی ان مٹھی بھر اسلام دشمنوں کو ان کے غیر انسانی اقدام سے باز رکھنے کی جرات نہیں رکھتے۔ اگر اس اتحاد کا مقصد سعودی حکمرانوں کے مفادات کا تحفظ ہے تو پھر اس کا نام اسلامی فوجی اتحاد کی بجائے اپنے مقصد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔"

ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ "اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور مسلمانوں کے حقوق کے ٹھکیدار ممالک کی طرف سے روہنگی مسلمانوں کے مسائل سے عدم دلچسپی کا اظہار اس امر کا عکاس ہے کہ ان ممالک کے اہداف اور مقاصد مختلف ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ "ہم ان تمام مسلم ممالک کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جو برما کے مسئلے پر ابھی تک خاموش ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین نے روہنگیا کے مسلمانوں کی حمایت میں ”حمایت مظلومین تحریک“ کا اعلان کیا ہے۔ 8ستمبر جمعہ کے روز میانمار کے مسلمانوں کے حق میں ملک کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔ جن کی قیادت ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی و صو بائی رہنما کریں گے۔ اس کے علاوہ مختلف شہروں میں سمینار اور اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے۔ مجلس وحدت مسلمین اقوام متحدہ اور برمی سفارت خانے سمیت مختلف اداروں کو احتجاجی خطوط لکھ کر برما میں مسلم کشی کو روکنے کا مطالبہ بھی کرے گی۔اس سلسلے میں مسلم ممالک کو بھی موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔برما کی حکومت کو مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیں بصورت دیگر برما سے سفارتی روابط منقطع کیے جائیں۔ برما کی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث شر پسندوں کو لگام دینے میں حیل حجت کا مظاہرے کرے تو پھر مسلمان خاندانوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اسلامی ممالک کی طرف سے طاقت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔"

انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ برما کے سفارت کار کو طلب کر کے سخت لب و لہجہ میں احتجاج کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ "مجلس وحدت مسلمین اس سفاکیت کے خلاف ہر سطح پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم نے کہا ہے کہ جمعہ کو میانمار کے مسلمانوں کے حق میں پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ حسن ظفر نقوی نے کراچہی پریس کلب میں پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ "میانمار میں جاری مسلم نسل کشی پر اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی قوتوں کی خاموشی انسانیت کی تضحیک اور بدترین بے حسی ہے۔"

اس موقع پر ان کے ہمراہ صوبائی سیکریٹری سیاسیات علی حسین نقوی، علامہ مبشر حسن، علامہ صادق جعفری، علامہ اظہر نقوی اور میر تقی ظفر بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس میں علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ "روہنگیا میں مسلمانوں کے قتل عام کا سلسلہ برمی حکومت کی سرپرستی میں گزشتہ کئی سال سے جاری ہے۔ رواں ماہ انسانیت سوز مظالم نے جو شدت اختیار کی ہے، اس کے تاریخ میں مثال نہیں ملتی، زندہ خواتین، نومولود اور کمسن بچوں کے جسمانی اعضا کاٹنے کی وڈیوز انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ نوجوانوں کے ہاتھ پاوں باندھ کر انہیں اذیت ناک انداز میں موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ روہنگیا میں مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت سوز سلوک کے روح فرسا مناظر درندگی کی بدترین تاریخ رقم کر رہے ہیں۔"

انھوں نے مزید کہا کہ "عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہزاروں مسلمان موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔ برما کی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کو کسی قسم کا تحفظ دینے کی بجائے قتل عام میں ملوث مذموم عناصر کی حوصلہ افزائی بڑھتے ہوئے انسانیت سوز واقعات کی بنیادی وجہ ہے۔ یورپ کے کسی ملک میں دہشت گردی کے عام سے واقعہ کے بعد پوری دنیا کے امن کو تہس نہس کر دیا جاتا ہے۔ ملالہ یوسف زئی پر گولی چلنے کے درد سے اقوام عالم کے سینے میں ٹیسیں اٹھنے لگتی ہیں، مگر افسوس میانمار میں ہزاروں مسلمانوں کا خاک و خون میں تڑپنا کسی کو دکھائی نہیں دے رہا۔"

علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ "سامراجی طاقتوں کی یہ دانستہ چشم پوشی امت مسلمہ سے متعصبانہ رویے کا برملا اظہار اور قابل مذمت ہے۔ اس مسئلہ پر مسلم ممالک کی طرف سے جس غیر سنجیدگی کا مظاہرہ دیکھنے میں آرہا ہے وہ بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ اسلام کا چیمپئین سعودی عرب بھی اس معاملے پر خاموش ہے، اسلامی ملکوں کا سعودی اتحاد کہاں ہے، امت مسلمہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے تشکیل دیے جانے والے اسلامک ملٹری الائنس نے برما کے مسئلہ پر منہ اور آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔ کیا مسلمانوں کے انتالیس ممالک مل کر بھی ان مٹھی بھر اسلام دشمنوں کو ان کے غیر انسانی اقدام سے باز رکھنے کی جرات نہیں رکھتے۔ اگر اس اتحاد کا مقصد سعودی حکمرانوں کے مفادات کا تحفظ ہے تو پھر اس کا نام اسلامی فوجی اتحاد کی بجائے اپنے مقصد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔"

ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ "اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور مسلمانوں کے حقوق کے ٹھکیدار ممالک کی طرف سے روہنگی مسلمانوں کے مسائل سے عدم دلچسپی کا اظہار اس امر کا عکاس ہے کہ ان ممالک کے اہداف اور مقاصد مختلف ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ "ہم ان تمام مسلم ممالک کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جو برما کے مسئلے پر ابھی تک خاموش ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین نے روہنگیا کے مسلمانوں کی حمایت میں ”حمایت مظلومین تحریک“ کا اعلان کیا ہے۔ 8ستمبر جمعہ کے روز میانمار کے مسلمانوں کے حق میں ملک کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔ جن کی قیادت ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی و صو بائی رہنما کریں گے۔ اس کے علاوہ مختلف شہروں میں سمینار اور اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے۔ مجلس وحدت مسلمین اقوام متحدہ اور برمی سفارت خانے سمیت مختلف اداروں کو احتجاجی خطوط لکھ کر برما میں مسلم کشی کو روکنے کا مطالبہ بھی کرے گی۔اس سلسلے میں مسلم ممالک کو بھی موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔برما کی حکومت کو مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیں بصورت دیگر برما سے سفارتی روابط منقطع کیے جائیں۔ برما کی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث شر پسندوں کو لگام دینے میں حیل حجت کا مظاہرے کرے تو پھر مسلمان خاندانوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اسلامی ممالک کی طرف سے طاقت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔"

انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ برما کے سفارت کار کو طلب کر کے سخت لب و لہجہ میں احتجاج کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ "مجلس وحدت مسلمین اس سفاکیت کے خلاف ہر سطح پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔"